Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts
Showing posts with label احمد ندیم قاسمی. Show all posts

Saturday, 9 March 2013

جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی

0 comments
جب ترا حکم ملا ترک محبّت کر دی 
دل مگر اس پہ دھڑکا کہ قیامت کر دی 
تجھ سے کس طرح میں اظہار محبّت کرتا 
لفظ سوجھا تو معانی نے بغاوت کر دی 
میں تو سمجھا تھا کہ لوٹ آتے ہیں جانے والے 
تو نے جا کر تو جدائی مری قسمت کر دی 
مجھ کو دشمن کے ارادوں پہ پیار آتا ہے 
تری الفت نے محبت مری عادت کر دی 
پوچھ بیٹھا ہوں تجھ سے ترے کوچے کا پتہ 
تیرے حالات نے کیسی تیری حالت کر دی 
کیا ترا جسم تیرے حسن کی حدّت میں جلا 
راکھ کس نے تری سونے کی سی رنگت کر دی


شاعر احمد ندیم قاسمی

خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے

0 comments
خدا کرے کہ مری ارض پاک پر اترے
وہ فصلِ گل جسے اندیشۂ زوال نہ ہو

یہاں جو پھول کھلے وہ کِھلا رہے برسوں
یہاں خزاں کو گزرنے کی بھی مجال نہ ہو

یہاں جو سبزہ اُگے وہ ہمیشہ سبز رہے
اور ایسا سبز کہ جس کی کوئی مثال نہ ہو

گھنی گھٹائیں یہاں ایسی بارشیں برسائیں
کہ پتھروں کو بھی روئیدگی محال نہ ہو

خدا کرے نہ کبھی خم سرِ وقارِ وطن
اور اس کے حسن کو تشویشِ ماہ و سال نہ ہو

ہر ایک فرد ہو تہذیب و فن کا اوجِ کمال
کوئی ملول نہ ہو کوئی خستہ حال نہ ہو

خدا کرے کہ مرے اک بھی ہم وطن کے لیے
حیات جرم نہ ہو زندگی وبال نہ ہو


شاعر احمد ندیم قاسمی

گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں

0 comments
گُل ترا رنگ چرا لائے ہیں گلزاروں میں
جل رہا ہوں بھری برسات کی بوچھاروں میں

مجھ سے کترا کے نکل جا مگر اے جانِ جہاں!
دل کی لَو دیکھ رہا ہوں ترے رخساروں میں

مجھ کو نفرت سے نہیں پیار سے مصلوب کرو
میں بھی شامل ہوں محبت کے گنہ گاروں میں

حُسن بیگانۂ احساسِ جمال اچھا ہے
غنچے کھِلتے ہیں تو بِک جاتے ہیں بازاروں میں

ذکر کرتے ہیں ترا مجھ سے بعنوانِ جفا
چارہ گر پھول پرو لائے ہیں تلواروں میں

میرے کِیسے میں تو اک سُوت کی انٹی بھی نہ تھی
نام لکھوا دیا یوسف کے خریداروں میں

رُت بدلتی ہے تو معیار بدل جاتے ہیں
بلبلیں خار لیے پھرتی ہیں منقاروں میں

چُن لے بازارِ ہنر سے کوئی بہروپ ندیم
اب تو فنکار بھی شامل ہیں اداکاروں میں


شاعر احمد ندیم قاسمی