Showing posts with label اپنی ڈائری سے ۔ ۔ ۔. Show all posts
Showing posts with label اپنی ڈائری سے ۔ ۔ ۔. Show all posts

Friday, 8 March 2013

ماں کی دعا

0 comments

ماں کی دعا


حضرت موسیٰ علیہ السلام نے ایک دفعہ اللہ تعالیٰ سے پوچھا میرے ساتھ جنت میں کون ہو گا ؟
ارشاد ہوا "فلاں قصاب تمہارے ساتھ ہو گا"
حضرت موسیٰ علیہ السلام کچھ حیران ہوئے اور اس قصاب کی تلاش میں چل پڑے وہاں دیکھا تو ایک قصاب اپنی دوکان میں گوشت بیچنے میں مصروف تھا ، اپنا کاروبار ختم کر کے اس نے ایک گوشت کا ٹکڑا ایک کپڑے میں لپیٹا اور گھر کی طرف روانہ ہو گیا ،حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس قصاب کے بارے میں مزید جاننے کیلئے بطور مہمان گھر چلنے کی اجازت چاہی۔

گھر پہنچ کر قصاب نے گوشت پکایا پھر روٹی پکا کر اسکے ٹکڑے شوربے میں نرم کیے اور دوسرے کمرے میں چلا گیا ،جہاں ایک انتہائی کمزور بڑھیا پلنگ پر لیٹی ہوئی تھی ، قصاب نے بمشکل تمام اسے سہارا دیکر اٹھایا ، ایک ایک لقمہ اسکے منہ میں دیتا رہا ، جب اس نے کھانا تمام کیا تو اس نے بڑھیا کا منہ صاف کر دیا کھانا کھا کر بڈھیا نے قصاب کے کان میں کچھ کہا ، جسے سن کر قصاب مسکرا دیا ، اور بڑھیا کو واپس لٹا کر باہر آ گیا۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام جو یہ سب دیکھ رہے تھے ، آپ نے قصاب سے پوچھا یہ عورت کون ہے اور اس نے تیرے کان میں کیا کہا جس پر تو مسکرا دیا ؟
قصاب بولا اے اجنبی ! یہ عورت میری ماں ھے ، گھر پر آنے کے بعد میں سب سے پہلے اس کے کام کرتا ہوں تو خوش ہو کر روز مجھے یہ دعا دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے جنت میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ رکھے اور میں مسکرا دیتا ہوں کہ میں کہاں اور موسیٰ کلیم اللہ کہاں ؟

کمپیوٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو

0 comments

کمپویٹر انٹرنیٹ اور زبان اردو

عصر حاضر میں کمپیوٹر اور انٹر نیٹ ایک بنیادی ضرورت اور ہماری زندگی کا جزو لاینفک بن چکا ہے۔ خیالات کی ترسیل کے لئے پہلے خطوط لکھے جا تے تھے اور کاغذ انسانی ہاتھ کے لمس کی مہک سے معمور ہوتے تھے۔ کاغذ کے دور سے کی بورڈ، کتاب کے دور سے ای کتاب اور خط کے دور سے ای میل تک کا سفر انسان نے بہت جلد طے کر لیا۔ یہ سب کچھ جدید ٹیکنالوجی کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی بدولت ہوا۔ فاصلوں کا جھنھجٹ ہی ختم ہوا اور جغرافیائی سرحدیں اپنا سا مْنہ لے کر رہ گئیں۔
اردو کمپیوٹنگ دراصل کمپیوٹر پر اردو استعمال کرنے اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کے متعلق اور اردو میں تعلیم و تحقیق کا نام ہے۔ برصغیر میں ٹائپ رائٹر کی آمد کے تھوڑے عرصے بعد ہی اردو بھی ٹائپ رائٹر سے لکھی جانے لگی لیکن ٹائپ رائٹر سے صرف نسخ رسم الخط یعنی نسخ فانٹ میں ہی اردو لکھی جا سکتی تھی۔ بلکہ مولانا ابو الکلام آزاد کی کچھ تصانیف کی کمپوزنگ بھی ٹائپ کے ذریعے ہوئی تھی۔
نستعلیق رسم الخط تکنیکی لحاظ سے تھوڑا پیچیدہ ہے کیونکہ اگر ہم مشین پر نستعلیق لکھنے کے حوالے سے بات کریں تو جیسے جیسے کسی لفظ کے میں حروف کا اضافہ ہوتا ہے ویسے ویسے پچھلے حروف نئے لکھے گئے حرف کے مطابق اپنی شکلیں اور جگہیں تبدیل کرتے ہیں۔ نستعلیق کی ایسی پیچیدگیوں کی وجہ سے ماضی میں کئی لوگوں نے یہ کہا تھا کہ اردو کا معیاری رسم الخط فارسی والوں کی طرح نستعلیق سے نسخ کر دینا چاہئے۔اور بعض احباب نے تو یہاں تک مشورہ دیا تھا کہ اردو کی ترقی کے لیے رومن یا دیوناگری رسم الخط کا استعمال کرنا چاہیے۔
کمپیوٹر کا دور شروع ہوتے ہی اردو والوں نے بھی کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کرنے کی کھوج لگانی شروع کر دی۔ تقریباً 1980ء میں پاکستان کے ایک بڑے اشاعتی ادارے کے مالک مرزا جمیل احمد نے جنگ گروپ کے تعاون سے کاروباری نکتہ نظر سے ایک نستعلیق نظام تیار کروایا جس کو انہوں نے اپنے والد مرزا نور احمد کے نام پر نوری نستعلیق کا نام دیا۔اسی نظام کی کچھ تختیاں وہ ہندوستان میں فرحان اشہر (مشہور افسانہ نگار جیلانی بانو اور ادیب انور معظم کے صاحبزادے)کے پاس چھوڑ آئے تھے۔ انہوں نے راجیو شری واستو کے ساتھ مل کر ’اردو پیج کمپوزر‘ یا ’صفحہ ساز‘ نامی سافٹ وئر بنایا۔ جس سے روزنامہ سیاست حیدر آباد نے کمپیوٹر کی چھپائی کا آغاز کیا۔ ادار? سیاست کے تعاون کی وجہ سے فرحان نے اس سافٹ وئر کے نستعلیق فانٹ کا نام بھی سیاست کے بانی عابد علی خاں کے نام پر ’عابد‘ رکھا۔ ہندوستان میں عرصے تک یہ سافٹ وئر استعمال کیا جاتا رہا۔ اور اب بھی حکومت ہند کے محکمہ انفارمیشن ٹکنالوجی میں اس کا نیا روپ ’ناشر‘ کے نام سے دستیاب ہے۔ یہاں سے کمپیوٹر کے ذریعے کتابت کا آغازہوا۔2000ء تک اردو کے کئی سافٹ ویئرز بنے اس کے بعد 2000ء تک کاروباری نقطہ نظر اور عام کمپیوٹر صارفین کے لئے کئی ایک سافٹ ویئرز بنے۔ ان میں جو سافٹ ویئر معیاری تھے وہ کاروباری نکتہ نظر سے بنائے گئے تھے اور ان کی قیمت عام صارفین کے بس سے باہر تھی۔ اس کی سب سے بڑی مثال ان پیج ہے جو کہ آج بھی تقریباً پندرہ ہزار روپئے قیمت کا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سافٹ ویر بھی ہندوستان میں ہی ایک غیر مسلم مسٹر ماتھر نے بنایا تھا۔
اس میں کوئی شک نہیں ان پیج اپنے وقت کا ایک معیاری سافٹ ویئر تھا لیکن اس کی وجہ شہرت شاید اس کے معیار کی بجائے اس کی چوری تھی ہوا یوں کہ پاکستان کے کسی مسٹر ڈونگل نے اس سافٹ ویئر کو کریک کر کے ہر ایک کے لئے مارکیٹ میں پھیلا دیا اب آپ اسے سافٹ ویئر کی چوری کہیں یا کچھ اور۔شر سے خیر نے جنم لیا کہیں یا جرم سمجھیں۔لیکن یہ بات حقیقت ہے کہ اس جرم کے نتیجہ میں ہی عام صارف کمپیوٹر پر بہتر انداز میں اردو لکھ پایا۔ شروع میں کمپیوٹر کے آپریٹنگ سسٹمز میں جس طرح انگریزی کی سہولت موجود تھی اس طرح اردو کی سہولت نہیں تھی یعنی جہاں کچھ لکھا جا سکتا تھا وہاں پر انگریزی تو لکھی جا سکتی تھی مگر اردو نہیں لکھی جا سکتی تھی اس لئے اردو کے لئے علیحدہ نظام بنا کر اور پھر اس خاص نظام کے ذریعے سافٹ ویئرز سے بنائے جاتے دراصل ان پیج اور تب کے دیگر اردو سافٹ ویئر کا اپنا اپنا ایک الگ نظام تھا اور یہی وجہ تھی کہ ان سافٹ ویئرز میں لکھی ہوئی اردو تحریر صرف انہیں میں ہی دیکھی جا سکتی تھی تب اگر کسی کو تحریر کسی دوسرے سافٹ ویئر یا انٹرنیٹ پر لے جانا پڑتی تو پہلے وہ تحریر کو تصویر میں منتقل کرتے اور پھر اس تصویر کو اپنی مطلوبہ جگہ پر لے جاتے۔ یعنی تب کمپیوٹر کی اردو نہیں بلکہ تصویری اردو تھی۔
یہ مسئلہ صرف اردو کے ساتھ نہیں تھا بلکہ دیگر کئی ایک زبانوں کے ساتھ تھا اس مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کام شروع ہوا اور پھر ایک ایسا نظام بنایا گیا جس میں دنیا کی تقریباً تمام زبانوں کو لکھنے کی سہولت دی گئی۔ اس نظام کا نام یونیکوڈ ہے۔
ونڈوز کے پرانے ورڑن میں ہی یونیکوڈ نظام شامل کر دیا گیا تھا لیکن اردو کے حوالے سے یونیکوڈ نظام کو مکمل طور پر ونڈوز ایکس پی میں شامل کیا گیا اس سہولت کے شامل ہونے سے کسی خاص اردو سافٹ ویئر کی ضرورت باقی نہ رہی بلکہ جہاں دیگر کوئی زبان جیسے انگریزی لکھی جاتی تھی وہیں پر اردو بھی بالکل ویسے ہی لکھنے کی سہولت مل گئی اور یہیں سے اصل معنیٰ میں اردو کمپیوٹر میں شامل ہوئی۔
کمپیوٹر کی اصل اردو: اردو ہو یا کوئی بھی زبان کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھتا ہے جو اس کے تحریر لکھنے والے نظام کے تحت لکھی جاتی ہے کیونکہ اب کمپیوٹر پر تحریر لکھنے کا نظام یونیکوڈ ہے لہٰذا کمپیوٹر صرف اسے ہی تحریر سمجھے گا جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جائے گی۔
یونیکوڈ نظام سے پہلے کیونکہ ہم براہ راست ہر جگہ اردو نہیں لکھ سکتے تھے اس لئے مجبوری تھی بلکہ واحد راستہ یہ تھا کہ اگر ہمیں انٹرنیٹ پر اردو ڈالنی ہے تو اسے تصویر صورت میں منتقل کر لیں۔ یعنی تصویری اردو سے کام چلایا جاتا۔ اس تصویری اردو نے جہاں کمپیوٹر پر وقتی طور پر کام چلایا وہیں پر بعد میں وہی تصویری اردو اردو کی ترویج کے لئے زہر قاتل ثابت ہوئی اور ابھی تک یہ تصویری اردو ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ اب جب ہم جدید تقاضوں کے مطابق بالکل انگریزی کی طرح اردو لکھ سکتے ہیں تو پھر ہمیں تصویری اردو کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ غور کریں تو کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال جلد سے جلد اور آسانی سے معلومات کا حصول ہے جس کی سب سے بڑی مثال انٹرنیٹ کی دنیا سے منٹوں میں بہت ساری معلومات حاصل کر لی جاتی ہے یعنی کمپیوٹر کا سب سے زیادہ استعمال معلومات کی تلاش ہے لیکن تصویری صورت میں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر پھیلائی ہوئی اردو میں سے کچھ تلاش نہیں کیا جا سکتا۔ مثال کے طور پر نہ تو آپ گوگل میں تصویری اردو کے ذریعے کچھ تلاش کر سکتے ہیں اور نہ ہی گوگل تصویری اردو سے کچھ تلاش کر کے آپ کو مطلوبہ معلومات فراہم کر سکتا ہے کیونکہ کمپیوٹر تصویری اردو کو ایک تصویر سے زیادہ کچھ نہیں سمجھتا اور اس تصویری اردو کے نقصانات ہی نقصانات ہیں بلکہ میں تو یہ کہوں گا کہ ٹیکنالوجی کے میدان میں تصویری اردو کو اردو کہنا ہی، اردو کی توہین ہے چھوٹی سی بات یہ کہ تصویری اردو ایک اندھیرا کنواں ہے جبکہ کمپیوٹر کی اصل یعنی جدید یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جانے والی اردو میٹھے پانی کا وہ چشمہ ہے جو ساری دنیا کو سیراب کر سکتا ہے۔ یاد رہے کمپیوٹر کی نظر میں تحریر وہی ہے جو یونیکوڈ نظام کے تحت لکھی جاتی ہے۔ یونیکوڈ اردو کے فوائد ہی فوائد ہیں۔ جہاں جہاں کمپیوٹر دیگر کسی زبان میں کچھ کر سکتا ہے بالکل وہیں پر یونیکوڈ اردو میں اردو کے لئے وہی سب کچھ کر سکتا ہے جو کسی دیگر زبان کے لئے کرتا ہے یونیکوڈ اردو اور تصویری اردو میں فرق سمجھنا ایک عام کمپیوٹر صارف کے لئے نہایت ہی آسان ہے سیدھی اور سادہ بات یہ کہ جو اردو تصویری کی صورت جیسے GIFیا JPG وغیرہ میں ہو وہ تصویری اردو ہے اور جو عام تحریر، جسے ہم منتخب کر کے ایک جگہ سے دوسری جگہ کاپی پیسٹ کر سکیں وہ یونیکوڈ اردو یعنی کمپیوٹر کی اصل اردو ہے۔ مثال کے لئے آپ بی بی سی اردو کی ویب سائٹ دیکھیں تو وہ یونیکوڈ اردو میں ہے جبکہ ہمارے اکثر ہندوستانی اور پاکستانی اخبارات کی ویب سائٹ تصویری اردو میں ہیں۔
ونڈوز ایکس پی میں اردو کی مکمل سہولت شامل تو ہو گئی تھی لیکن اردو کے لئے دیگر کئی قسم کی چیزیں جیسے کیبورڈ لے آؤٹ سافٹ ویئر اور فانٹ وغیرہ تیار کرنے اردو ویب سائٹ بنانے اور خاص طور پر اردو بلاگنگ جیسے کام اور کئی دیگر مسائل کا حل خود اردو والوں کو کرنا تھا اور سونے پر سہاگہ یہ کہ انیسویں صدی میں جینے والے یعنی تصویری اردو سے کام چلانے والوں کو بھی سمجھانا تھا کہ جدید طریقوں سے اردو لکھو تاکہ اردو کی ترویج آسانی سے ممکن ہو سکے یہ ساری کوششیں ایک عام صارف کے لئے کرنی تھیں تاکہ وہ آسانی سے کمپیوٹر پر اردو لکھ سکے جبکہ کاروباری لوگ تو بہت پہلے سے کاروباری نکتہ نظر سے اور پیسے کے زور پر اپنے کام چلائے ہوئے تھے ونڈوز آپریٹنگ سسٹم میں اردو کی سہولت شامل ہونے کے بعد ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو کی ترویج کے لئے انفرادی طور پر لوگ کام کر رہے تھے۔2002 میں ہی اعجاز عبید (اصل نام اعجاز اختر) نے یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ بنایا۔ اور اردو کی کمپیوٹر پر تدریج کے لئے اس فعال گروپ میں ہند و پاک کے سارے تکنیکی لوگ جمع ہو گئے۔ اسی گروپ اور اردو پاک ٹائپ گروپ کے ارکان نے اور بہت سے نسخ یونی کوڈ فانٹس اور مختلف کی بورڈس بنائے۔اسی دوران 2002ء میں ہی بی بی سی اردو نے جدید یونیکوڈ نظام کے تحت اپنی ویب سائٹ بنا دی یہ ویب سائٹ جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اردو لکھنے لگی۔ اور اس نے بہت شہرت حاصل کی کمپیوٹر میں اردو شامل ہو چکی تھی تو ہر ادارے نے اس طرف دوڑیں لگا دیں2004ء میں مشہور آن لائن انسائیکلوپیڈیا یعنی وکی پیڈیا نے بھی اردو کو شامل کر لیا اور اب تو گوگل تک اردو میں دستیاب ہے۔ 2005ء تک زیادہ تر انفرادی طور پر کام ہوتا رہا۔ اس کے علاوہ حکومت پاکستان کا ادارہ ’مقتدرہ اردو زبان‘ تھا جس نے کچھ کام کیا تھا اور کر رہا ہے۔ اگرچہ یہ سارے فعال رضاکار یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ سے متعلق تھے۔ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو کی ترویج کا اصل کام تب شروع ہوا جب 2005ء4 میں چند رضاکاروں نے مل کر اردو ویب ڈاٹ آرگ ویب سائٹ کی بنیاد رکھی۔ نبیل نقوی جو خود بھی یاہو اردو کمپیوٹنگ گروپ کے رکن تھے، نے یہ خیال ظاہر کیا کہ اگر اردو لکھنے کے لئے آن لائن ٹول دستیاب ہو سکے تو عام آدمی کی بورڈ اور فانٹ کے علم کے بغیر اردو لکھ سکے۔ اسی خیال کو عملی جامہ پہناتے ہوئے نبیل نقوی نے اردو پیڈ کے نام سے ایک ایڈیٹر بنایا۔اور نبیل نقوی کے ساتھ زکریا اجمل، آصف اقبال اور قدیر احمد نے اسی ویب سائٹ پر ایک فورم تشکیل دیا گیا اور اس کا نام اردو محفل رکھا۔ پی ایچ بی بی نامی سافٹ وئر کو اردو روپ دیا تھا قدیر احمد نے اور اس میں نبیل کا اردو پیڈ شامل تھا۔ اسی فورم پر تمام رضاکار مل کر تکنیکی اور دیگر حوالوں سے اردو کی ترویج کے لئے کھوج لگانے لگے خاص طور پر جدید نظام کے مطابق اردو میں ویب سائٹ بنانے اور انٹرنیٹ کے ایک موثر ہتھیار یعنی بلاگ اردو میں بنانے پر کام کیا گیا۔ اردو ویب والوں نے شروعات میں ہی اردو سیارہ کے نام سے ایک بلاگ ایگریگیٹر بنا دیا تھا آج آپ کو انٹرنیٹ پر جو اردو نظر آ رہی ہے اس میں سب سے بڑا ہاتھ اردو ویب ڈاٹ آرگ کا ہی ہے۔ اردو ویب کی بدولت کئی ایک اردو فورم وجود میں چکے تھے لیکن ایک اچھے نستعلیق رسم الخط کی کمی ہر جگہ محسوس ہوتی تھی پھر 2008ء میں پشاور کے ایک نوجوان2008ء امجد حسین علوی نے علوی نستعلیق بنا کر جیسا انقلاب برپا کر دیا گو کہ آج بہت کم لوگ علوی نستعلیق کے بارے میں جانتے ہیں مگر اردو محفل کے ہی پلیٹ فارم سے علوی نستعلیق ہی تھا جس نے فانٹ سازی کو ایک نئی راہ دکھائی پھر اردو محفل میں ہی اسی راہ پر چلتے ہوئے جمیل نوری نستعلیق بنا اور اب حا ل ہی میں شاکر القادری صاحب نے اردو والوں کو وہ تفہ دے دیا جو قسمت والوں کو نصیب ہوتا ہے۔ شاکرالقادری صاحب نے ہمیں القلم تاج نستعلیق کی صورت میں ایک بہت بڑا تفہی دیا۔ القلم تاج نستعلیق مکمل طور پر مفت ہے اور بلا خوف و خطر استعمال کیا جا سکتا ہے۔
اردو ویب سائٹ بنانے اور اردو میں بلاگنگ کے مسائل کے حل ہوتے گئے کئی مشہور سافٹ ویئر کا اردو ترجمہ ہوا یہاں تک کہ ایک نوجوان محمد علی مکی نے لینکس آپریٹنگ سسٹم کا اردو ترجمہ کر ڈالا ٹیکنالوجی کے میدان میں اردو والوں کا قافلہ دن بدن بڑھتا جا رہا تھا۔
اردو بلاگنگ کے ارتقاء4 کے لئے بھی ایم بلال کا زبردست رول رہا ہے۔ اردو میں بلاگ کس طرح بنایا جائے، اس کے ٹیوٹوریل لکھے۔ کئی رضاکاروں نے بلاگ کے سانچے بنائے، اس کے علاوہ مرحوم اردو ٹیک نامی ویب سائٹ نے اردو بلاگ کی پیش کش کی تو بہت سے لوگوں نے بلاگس شروع کئے۔ بیشتر اردو بلاگس میں رائے کے اظہار کے لئے وہی نبیل نقوی ولا اردو پیڈ استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
لیکن ایک چیز قابل غور تھی کہ اس قافلے میں زیادہ تر ٹیکنیکل لوگ تھے کچھ دوستوں کا خیال تھا کہ کمپیوٹر پر اردو کی سہولت شامل کرنے کا طریقہ تھوڑا لمبا اور مشکل ہے اس وجہ سے عام کمپیوٹر صارف کو مشکلات کا سامنا ہے اور وہ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر اردو لکھنے میں دقت محسوس کرتے ہیں بلکہ کئی لوگ تو مشکل کی وجہ سے بھاگ ہی جاتے ہیں ان مشکلات کو دور کرنے اور اردو کی زیادہ سے زیادہ ترویج کے لئے ایم بلال ایم نے 2011ء4 میں پاک اردو انسٹالر کے نام سے ایک ایسا سافٹ ویئر بنایا جس کے ذریعے، صرف چند کلک سے کمپیوٹر پر اردو کے متعلق تمام سہولیات خودبخود شامل ہو جاتی ہیں۔ پاک اْردو انسٹالر کمپیوٹر اور انٹر نیٹ پر اْردو لکھنے کے لئے ایک مْفت سافٹ وئیر ہے۔ اس سافٹ وئیر کے خالق ایم بلال ہیں۔ پاک اردو انسٹالر ونڈوز آپریٹنگ سسٹم کے لئے ہے۔ پاک اردو انسٹالر انسٹال کرنے کے بعد کمپیوٹر اور انٹرنیٹ پر جس جگہ کچھ لکھا جا سکتا ہے وہاں پر جدید تقاضوں کے مطابق اردو بھی لکھی جا سکتی ہے اور اردو بہتر انداز میں پڑھنے کے لئے اردو کے چند ضروری فانٹس خودبخود انسٹال ہو جاتے ہیں۔
اردو کی ترویج کے لئے آج کے جدید ہتھیار انٹرنیٹ کو اپنائیے اور زیادہ سے زیادہ معلومات انٹرنیٹ پر ڈالنے کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں کو بھی اردو کی طرف قائل کریں۔ انٹرنیٹ کی دنیا میں آج ان گنت یونیکوڈ اردو فورمز اور ویب سائٹس وجود میں آئی ہیں۔اور اردو کے چاہنے والوں کے لیے ایک بہت بڑا ذخیرہ ان ویب سائٹس پر جمع کر دیا گیا ہے لیکن پوری دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو وطن عزیز ہندوستان سے اس سمت میں پیش رفت بہت سست رہی ہے۔ جو ویب سائٹس موجود ہیں وہ اپنے تصویری فارمیٹ کی وجہ سے اردو داں طبقہ کی ضرورتوں کو پورا کرنے سے قاصر ہیں۔ لیکن بعض فکر مند احباب ایک عرصہ سے یونیکوڈ اردو کی ہندوستان میں ترویج و ترقی کے لیے کوشاں ہیں تاکہ زمانہ کی رفتار کے ساتھ ہماری زبان بھی ترقی کر سکے۔ الحمدللہ وقت کی رفتار کو دیکھ کر بہت ساری ویب سائٹس اب یونیکوڈ فار میٹ میں بھی نظر آنے لگی ہیں۔ کچھ اخبارات نے بھی اپنے یونیکوڈ ایڈیشن شروع کیے ہیں جو انتہائی قابل مبارکباد عمل ہے۔
آج کل سوشل ویب سائٹس کا جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے اور خواص و عوام ان ویب سائٹ سے جڑے ہوئے ہیں لیکن ان سوشل ویب سائٹس پر بڑھتی ہوئی بے حیائی اور فحاشی سے سلیم الفطرت نفوس کافی پریشان کہ ان کے اثرات سے ہماری نسلوں کی حفاظت کیسے ہو، ہماری لسانی تہذیبی اور ثقافتی قدروں کی کس طرح حفاظت کی جائے؟ اس بات کی شدید ضرورت محسوس کی جا رہی تھی کہ اردو طبقے کا اپنا کوئی سوشل نیٹورکنگ پلیٹ فارم تشکیل دیا جائے۔ اسی ضرورت کی تکمیل کے طور پر حیدر آباد سے اعجاز عبید اور منماڑ سے ڈاکٹر سیف قاضی نے اپنی مشترکہ کوششوں سے اردو کو خواص سے نکال کر عوامی سطح پر لانے ، اردو رسم الخط کی ترویج و ترقی ، صالح اقدار کے فروغ اور مثبت سماجی روابط کی برقراری کے لیے اردو داں طبقے کی خاطر بزم اردو ڈاٹ نیٹ نام سے ایک غیر منفعتی اردو سوشل نیٹورکنگ ویب سائٹ کا آغاز کیا ہے۔الحمدللہ یہ ویب سائٹ بھی محبان اردو کی اجتماع ثابت ہو رہی ہے اور عوام و خواص یہاں پر شامل ہو کر اپنے ذوق کی تکمیل کر رہے ہیں۔
آج کی دنیا کے جدید ہتھیاروں میں ایک بلاگ بھی ہے اردو میں بلاگ لکھئے ،فیس بک اور ٹوئیٹر پر اردو لکھیں بزم اردو میں اردو داں احباب سے دوستی کریں اور اردو میں اپنا پیغام اور آواز سب تک پہنچا دیجئے۔ لیکن ان ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے لیے آپ کے کمپیوٹر کو اردو پڑھنے اور لکھنے کے لائق بنانے کی ضرورت پیش آئے گی۔ اس کے لیے آپ کو کسی مخصوص کی بورڈ کی ضرورت نہیں ہوتی ہے۔ محض پاک اردو انسٹالر کی تنصیب کے ساتھ آپ کا کمپیوٹر ونڈو کی اپلیکیشنس اور دیگر ویب سائٹس پر اردو تحریر کرنے کے قابل ہو جاتا ہے۔ پاک اردو انسٹالر حاصل
کرنے کے لیے www.mbilalm.com  پر تشریف لے جائیں۔

پریشان کن فیس بک اطلاعات

0 comments

 کہوں کس سے میں کہ کیا ہے یہ  Tag  بری بلا ہے !

بر صغیر ایشیا میں لوگ فیس بک نامی وبائی مرض کی جس طرح چپیٹ میں آئے ہوئے ہیں اس سے ہم اور آپ بخوبی واقف ہے۔ ڈجٹل میپ ایشیا کی رپورٹ کے مطابق جنوری 2012 میں  صرف انڈیا کے فیس بک صارفین کی تعداد  43,497,980 سے متجاوز کر چکی ہیں۔
کیا بچے کیا بوڑھے ( ہم جوانوں کا تذکرہ نہیں کر رہے ہیں کیونکہ وہ   دیوانے ہوتے ہی ہیں ) کیا امیرکیا غریب ہر ایک کو فیس بک کا چسکہ لگا ہوا ہے۔ اور کیوں نا لگے؟ ایک طرف یہاں ہر ایک کے ذوق کے مطابق تفریح طبع کا سامان میسر ہے تو دوسری طرف یہ اپنی تخلیقات و ذہنی اپج بہت ہی کم عرصہ میں دوسروں تک پہنچانے کا ایک بڑا ذریعہ بھی ہے۔
یہاں تک تو ٹھیک ہے ہمارے مضمون کے لیے تمہید بھی خوب بندھ گئی اب اصل موضوع کی طرف آتے ہیں۔
چونکہ گوگل پلس کے آنے کے بعد فیس بک نے  کاپی کیٹ (Copy Cat ) بنتے ہوئے اپنے اندر  بہت ساری تبدیلیاں کی ہیں اس لیے روایتی دوستوں کی حدود کو پار کرتے ہوئے ہم نے بھی کچھ احباب کے دوستی کے لیے بڑھے ہوئے ہاتھ تھامے تھے اور اسی طرح جو لوگ ہمارے معیار پر پورے اترے تھے ان کی طرف ہم نے دوستی کا ہاتھ بڑھایا بھی تھا۔
لیکن کسے معلوم تھا کہ یہ "مفید اضافہ" عذاب جان بن جائے گا۔ مسئلہ یوں ہوا کہ چونکہ ہمیں شعر و شاعری سے کچھ شغف وراثت میں ملا ہے اور کچھ ہمارا اپنا ذاتی ہے  لھٰذا ہمارے فیس بک حلقہ احباب میں ایسے لوگ جمع ہوگئے جو شاعری سے ( فصیح اردو کا ستعمال کرتے ہوئے کہوں تو )علاقہ رکھتے ہیں۔
تو حضرات اب ایسے نوخیز شاعروں کو   اپنا کلام سنانے کے لیے کسی کی آؤ بھگت  ، زور زبردستی  چائے خانہ میں اپنا وقت گنوانے کی چندہ ضرارت نہیں پڑتی ہے ۔۔۔۔
ہر پانچ منٹ مین ایک غزل  تیار کر لی جاتی ہے اور بقول غالب ۔ ۔ ۔
گر نہیں ہیں مرے اشعار میں معنی نہ سہی!
کے مصداق فیس بک پر پوسٹ کر دیتے ہیں اور جناب پھر داد وصولی کا وہ صلصلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے احوال ہم الفاط میں بیاں کرنے سے قاصر ہیں۔

خدایا ! دن میں 10 فوٹو ٹیگ اور پھر ایک فوٹو پر کم از کم 25 تبصرے۔ ۔ ۔

ہم دن بھر کے تھکے ماندے  ۔ ۔ ۔ (ملحوظ رہے کہ ہم یہاں بیگم کی ڈانٹ پھٹکار کا ذکر نہیں کر رہے ہیں ۔۔ شادی شدہ افراد اندازہ قائم کر سکتے ہیں) سوچتے ہیں کہ چلو فیس بک پر ہی کچھ دیر تفریح طبع کرلیں ۔ ۔ تو جناب  تقریباً 15 سے بیس  احباب  بصورت فیس بک نوٹیفکیشن  قطار در قطار کھڑے داد و تحسین طلب کرنے کے لیے ہمارا منتظر پاتے ہیں۔  خیر۔۔ ۔  ہم اپنی دکھتی ہوئی پیٹھ اور موبائل کی بیٹری کی طرح ڈاؤن ہوتے ہوئے دماغ کی   کی پرواہ  نہ کرتے ہوئے  اپنی  مقتدرت اور نیٹ کنیکشن دونوں کے حق میں صحت کی دعا کرتے ہوئے یکے بعد دیگرے  ان تمام نو خیز شاعروں کی داد و تحسین پانے کی خواہش مند پیٹھ تھپ تھپاتے ہوئے ۔ ۔ خود ہی سو جاتے ہیں۔
دوسری صبح  ہم گوگل کے کافی کان مروڑنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن کوئی ایسا طریقہ ہمیں ہاتھ نہیں آتا جس سے اس tagging  سے چھٹکارا حاصل ہو۔ تا حال صرف ایک طریقہ سمجھ میں آیا ہے کہ Approve tag permission  کو On کیا جائے اور جب بھی کوئی ٹیگ کریں like  اور ایک مختصر سا تبصرہ کرنے کے بعد  Remove Tag اور unfollow post  کر کے اس بمباری سے نجات حاصل کی جائے لیکن ۔ ۔ ۔
جب تک آپ کسی کو Unfriend نہ کر دیں یہ نوٹیفکیشن کا عذاب جاری رہتا ہے۔