Saturday, 9 March 2013

حال دل جس نے سنا گریہ کیا

0 comments

حال دل جس نے سنا گریہ کیا
حال دل جس نے سنا گریہ کیا 
ہم نہ روئے ہا ں ترا کہنا کیا 
یہ تو اک بے مہر کا مذکورہ ہے 
تم نے جب وعدہ کیا ایفا کیا 
پھر کسی جان وفا کی یاد نے 
اشک بے مقدور کو دریا کیا 
تال دو نینوں کے جل تھل ہو گئے 
ابر رسا اک رات بھر برسا کیا 
دل زخموں کی ہری کھیتی ہوئی 
کام ساون کا کیا اچھا کیا 
آپ کے الطاف کا چرچا کیا 
ہاں دل بے صبر نے رسوا کیا

شاعر ابن انشاء

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔