Saturday, 9 March 2013

یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں

0 comments
یہ تنہا رات یہ گہری فضائیں 
اسے ڈھونڈیں کہ اس کو بھول جائیں 
خیالوں کی گھنی خاموشیوں میں 
گھلی جاتی ہیں لفظوں کی صدائیں 
یہ رستے رہرووں سے بھاگتے ہیں 
یہاں چھپ چھپ کے چلتی ہیں ہوائیں 
یہ پانی خامشی سے بہہ رہا ہے 
اسے دیکھیں کہ اس میں ڈوب جائیں 
جو غم جلتے ہیں شعروں کی چتا میں 
انہیں پھر اپنے سینے سے لگائیں 
چلو ایسا مکاں آباد کر لیں 
جہاں لوگوں کی آوازیں نہ آئیں


شاعر احمد مشتاق

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔