Saturday, 9 March 2013

کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں

0 comments
کہیں امید سی ہے دل کے نہاں خانے میں 
ابھی کچھ وقت لگے گا اسے سمجھانے میں 
موسمِ گل ہو کہ پت چھڑ ہو بلا سے اپنی 
ہم کہ شامل ہیں نہ کھلنے میں نہ مرجھانے میں 
ہم سے مخفی نہیں کچھ راہگزرِ شوق کا حال 
ہم نے اک عمر گزاری ہے ہوا خانے میں 
ہے یوں ہی گھومتے رہنے کا مزا ہی کچھ اور 
ایسی لذّت نہ پہنچنے میں نہ رہ جانے میں 
نئے دیوانوں کو دیکھیں تو خوشی ہوتی ہے 
ہم بھی ایسی ہی تھے جب آئے تھے ویرانے میں 
موسم کا کوئی محرم ہو تو اس سے پوچھو 
کتنے پت جھڑ ابھی باقی ہیں بہار آنے میں


شاعر احمد مشتاق

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔