Saturday, 9 March 2013

کوئی حسرت بھی نہیں ، کوئی تمنا بھی نہیں

0 comments

کوئی حسرت بھی نہیں ، کوئی تمنا بھی نہیں
کوئی حسرت بھی نہیں ، کوئی تمنا بھی نہیں 
دل وہ آنسو جو کسی آنکھ سے چھلکا بھی نہیں 
روٹھ کر بیٹھ گئ ہمت دشوار پسند 
راہ میں اب کوئی جلتا ھوا صحرا بھی نہیں 
آگے کچھ لوگ ھمیں دیکھ کے ھنس دیتے تھے 
اب یہ عالم ھے کہ کوئی دیکھنے والا بھی نہیں 
درد وہ آگ کہ بجھتی نہیں جلتی بھی نہیں 
یاد وہ زخم کہ بھرتا نہیں ، رستا بھی نہیں 
باد باں کھول کے بیٹھے ھیں سفینوں والے 
پار اترنے کے لیے ہلکا سا جھونکا بھی نہیں


شاعر احمد راہی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔