Saturday, 9 March 2013

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا

0 comments

دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا


دل کے سنسان جزیروں کی خبر لائے گا 
درد پہلو سے جدا ہو کے کہاں جائے گا 
کون ہوتا ہے کسی کا شبِ تنہائی میں 
غمِ فرقت ہی غمِ عشق کو بہلائے گا 
چاند کے پہلو میں دم سادھ کے روتی ہے کرن 
آج تاروں فُسوں خاک نظر آئے گا 
راکھ میں آگ بھی ہے غمِ محرومی کی 
راکھ ہو کر بھی یہ شعلہ ہمیں سلگائے گا 
وقت خاموش ہے رُوٹھے ہوئے یاروں کی طرح 
کون لو دیتے ہوئے زخموں کو سہلائے گا 
دھوپ کو دیکھ کے اس جسم پہ پڑتی ہے چمک 
چھاؤں دیکھیں گے تو اس زلف کا دھیان آئے گا 
زندگی چل کہ زرا موت کا دم خم دیکھیں 
ورنہ یہ جذبہ لحد تک ہمیں لے جائے گا


شاعر احمد راہی

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔