Saturday, 9 March 2013

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

0 comments

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے 
اپنی خوشی نہ آئے، نہ اپنی خوشی چلے 
بہتر تو ہے یہی کہ نہ دنیا سے دل لگے 
پر کیا کریں جو کام نہ بے دل لگی چلے 
ہو عمرِ خضر بھی تو کہیں گے بوقتِ مرگ 
ہم کیا رہے یہاں ابھی آئے ابھی چلے 
دنیا نے کس کا راہِ فنا میں دیا ہے ساتھ 
تم بھی چلے چلو یونہی جب تک چلی چلے 
نازاں نہ ہو خِرد پہ جو ہونا ہے وہ ہی ہو 
دانش تری نہ کچھ مری دانشوری چلے 
کم ہوں گے اس بساط پہ ہم جیسے بدقمار 
جو چال ہم چلے سو نہایت بری چلے 
جاتے ہوائے شوق میں ہیں اس چمن سے ذوق 
اپنی بلا سے بادِ صبا اب کبھی چلے

شاعر ابراہیم ذوق

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔