Saturday, 9 March 2013

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے

0 comments

پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے
پھرتا لیے چمن میں ہے دیوانہ پن مجھے

زنجیرِ پا ہے موجِ نسیمِ چمن مجھے

ہوں شمع یا کہ شعلہ خبر کچھ نہیں مگر

فانوس ہو رہا ہے میرا پیراہن مجھے

کوچے میں تیری کون تھا لیتا بھلا خبر

شب چاندنی نے آ کے پہنایا کفن مجھے

دکھلاتا اک ادا میں ہے سو سو بناؤ

کس سادہ پن کے ساتھ تیرا بانکپن مجھے

آیا ہوں نور لے کے میں بزمِ سخن میں ذوق

آنکھوں پہ سب بٹھائیں گے اہلِ سخن مجھے


شاعر ابراہیم ذوق

0 comments:

آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔