خواتین و حضرات ! ہماری زندگی میں اکثر اوقات یہ ہوتا ہے کہ معاشرتی زندگی میں آپ کی کسی ایسے مقام پر بے عزتی ہو جاتی ہے کہ آپ کھڑے کھڑے موم بتی کی طرح پگھل کر خود اپنے قدموں میں گر جاتے ہیں ۔
انسان اکثر دوسروں کو ذلیل و خوار کرنے کے لیے ایسے فقرے مجتمع کر کے رکھتا ہے کہ وہ اس فقرے کے ذریعے وار کرے اور دوسرے پر حملہ آور ہو اور پھر اُن کی زندگی اور اُن کا جینا محال کر دے ۔
یہ بھی تکبر کی ایک قسم ہوتی ہے ۔ ہمارے مذہب میں یہ روایت بہت کم تھی ۔ اگر تھی تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ اپنی تعلیمات کے ذریعے لوگوں کو اس فرعونیت سے نکالتے رہتے تھے ، جس کا گناہ شداد ، فرعون ، نمرود اور ہامان نے کیا تھا ۔
اشفاق احمد زاویہ 2 تکبر اور جمہوریت کا بڑھاپا صفحہ 102










0 comments:
آپ بھی اپنا تبصرہ تحریر کریں
اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔